PictureGallery 23
================
''بئر اریس '' یعنی '' اریس کا کنواں ''
یا
بئر خاتم
 یہ جنت کی بشارتوں کا مقام بھی ہے
 اور یہیں کہیں ہماری ناقص ، کمزور اور
 غیر معتبر نگاہوں سے اوجھل آقا دو جہاں
 سیدنا محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلم
 کی انگھوٹی مبارک بھی موجود ہے -
===============================
 

.
.
یہ مقدس کنواں مسجد قباء شریف کے قریب ہے۔ اس کنوئیں کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور ﷺ اس پر تشریف لائے ۔اس سے اپنی پیا۔ اور باقی پانی معہ لعاب دہن کے اس میں ڈال دیا پھر یہیں وضو فرمایا۔ موزوں پر مسح فرما کر نماز ادا فرمائی۔ اریس ایک یہودی کا نام تھا۔ یہ کنواں اسی کی ملکیت تھا۔ اسی منا سبت سے بئر اریس کہلایا۔ یہ مسجد قباء سے 37 میٹر کے فاصلہ پر واقع تھا۔ جو 12 میٹر گہرا تھا۔

سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں۔ کہ میں نےایک مرتبہ پختہ ارادہ کیا کہ آج دن بھر شاہ کونین ﷺ کے لئے آپ کی صحبت میں حاضر رہوں گا۔ اس ارادہ سے میں نے گھر ہی میں وضو کیا اور مسجد میں آ کر حضور انور ﷺ کے متعلق دریافت کیا۔ مجھے بتایا گیا۔ کہ ابھی ابھی اس سمت یعنی قباء کی طرف تشریف لے گئے ہیں۔میں آپ کے نقش پا کو دیکھتے ہوئے قباء پہنچ گیا۔ معلوم ہو سید کائنات ﷺ بئر اریس پر جلوہ افروز ہیں۔ وہ کنواں باغ کی چار دیواری کے اندر تھا۔ میں دروازہ پر آپ کی دربانی کا جزبہ لئے بیٹھ گیا۔

آپﷺ نے وضو کیا۔ اور کنوئیں کے اندر پاؤں مبارک لٹکا کر پنڈلیاں ننگی کر کے منڈیر پر بیٹھ گئے۔ میں نے خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر مؤدبانہ سلام عرض کیا۔ اور پھر پھر دروازے کے پاس جا بیٹھا۔
سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں میں دربانی کے فرائض دے رہا تھا۔ کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے پو چھا کون؟ جواب ملا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ میں نے عرض کیا ٹھہریے میں حضورﷺ سے اجازت لے کر آتا ہوں۔ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی حضور صدیق اکبر رضی الہ تعالیٰ عنہ دروازہپر حا ضر ہیں ۔ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ۔اسے اندر بھی بلا لو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔میں نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خوشخبری سنائی تو آپ باغ کے اندر داخل ہوگئے اور حضور ﷺ کی دائیں جانب کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔
سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں۔ کہ پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔ میں نے پوچھا کون؟جواب ملا میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کی حضرت ذرا انتظار فرمائیے۔ میں آپ کے آنے کی اطلا ع حضور ﷺ سے کیے دیتا ہوں۔ میں دربار رسالت میں حاضر ہو۔ عرض کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ پر حا ضر ہیں۔ اندر آنے کی اجازت چا ہتےہیں۔ کیا حکم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جاؤاسے اندر بھی بلا لواور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ میں نے واپس آکر سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بشارت سنا دی۔ آپ اندر تشریف لے آئے ۔
 حضور ﷺ کی بائیں جانب کنوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔

سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں۔ میں پھر واپس آکر دروازہ پر بیٹھ گیا۔ کسی نے دسک دی۔میں نے
 پوچھا کون ؟ جواب ملا عثمان بن عفان ہوں اندر آنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ میں نے حضور ﷺ سے اجازت چاہی۔ فرمایا اسے بھی اندر بلا لو اور جنت کی بشارت سنا دو۔ اور ان پر( یعنی انکے دور میں ) وارد ہونے والے فتنہ وفساد سے بھی انہیں آگاہ کر دو۔

میں نے واپس آ کر بشارت سنا دی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر داخل ہوئے اور کنوئیں کی منڈیر پر حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔ کہ دائیں بائیں جگہ نہ تھی۔
انگھوٹھی کی گمشدگی۔
================
سید نا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگھوٹھی بھی اسی بئر اریس میں گری تھی۔
یہ مقدس انگھوٹھی اولا'' حضور ﷺ کے ہاتھ میں رہی۔ پھر آپکے وصال مبارک کے بعد سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے پہنا۔ پھرسید نا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعد میں اسے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہنا۔
ایک دن سید نا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بئر اریس پر بیٹھے انگوٹھی اتار کر انگلی میں پھیر رہے تھے کہ یہ اچانک اس کنوئیں میں گر گئی - مسلسل 3 دن تک تلاش جاری رہی۔ مگر انگوٹھی نہ مل سکی۔ تمام پانی نکالا مگر ناکامی ہوئی۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ انگھوٹی آج تک اسی کنویں میں کہیں موجود ہے -
نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کا فرمان عالیشان کے تناظر میں اس انگھوٹی کی گمشدگی اس بات کی علامت بھی تصور کی جاتی ہے کہ اس واقعہ کے بعد امت مسلمہ کی وحدت برقرار نہ رہ سکی اور فتنہ اور فساد کا ایک دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے -
انگھوٹی کی گمشدگی کے واقعہ کے بعد اس کنوئیں کو''بئراریس '' کے ساتھہ ''بئر خاتم '' بھی کہا جانے لگا - عربی میں '' خاتم '' انگھوٹی کہتے ہیں جبکہ ''بئر '' کنوئیں کو کہا جاتا ہے -
کنواں اب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تا ہم
زیر نظر تصویر میں مسجد قبا نظر آرہی ہے اور اسکے سامنے سڑک پر جو کلرڈ فوارے نظر آ رہے ہیں وہ ''بئر اریس '' یا ''بئر خاتم '' کا اصل مقام ہے - نیچے بلیک اینڈ واہٹ تصویر میں مسجد قبا اور ''بئر اریس '' صاف نظر آ رہا ہے -
یہ اسلامی تاریخ کا عظیم اور روح پرور گوشہ ہے اور آپ اب جب بھی قبا کی زیارت پر جائیں تو اسکی روحانی برکات کو مت مس کریں اور ان فواروں کو

اس کی تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہوے اسکی روحانی لذتوں سے ضرور محظوظ ہوں - یہ جنت کی بشارتوں کا مقام بھی ہے اور یہیں ہماری ناقص ، کمزور اور غیر معتبر نگاہوں سے اوجھل آقا دو جہاں سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کی انگھوٹی مبارک آج بھی موجود ہ
ے -

=========================================
Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST