PictureGallery 22
=================
اذخر گھاس کیوں متبرک ہے
=================


احد کی جنگ ختم ہو چکی تھی - مسلمانوں کے ستر صحابہ بشمول عم رسول ( یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے
چچا ) سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہادت کے مرتبے پر پہنچ چکے تھے - رسول الله صلی الله علیہ وسلم خود بھی زخموں سے چور تھے لیکن واپسی سے قبل ان مظلوم شہدا کی تدفین کا مرحلہ ابھی باقی تھا - جب ان شہدا کو احد کے میدان میں دفن کیا جانے لگا تو ان کے اجسام مبارکہ کو کفن دینے کے لیے جو کپڑا موجود تھا ، وہ ناکافی تھا - اب کیا کیا جایے ؟ ان مبارک جسموں کو کیسے کفن پہنایا جایے ؟
اس سلسلے میں تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں میں ایک مختصر سا واقعہ پیش کیا گیا ہے جس میں سے کچھہ نے سیدنا امیر حمزہ رضی الله و تعالی کا نام مبارک لیکر اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کچھہ نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسم مبارک لیکر اس واقعہ کو قلمبند کیا ہے - واقعہ ان دونوں مبارک ہستیوں میں سے کسی کا بھی ہو پر یہ واقعہ ان دونوں مبارک ہستیوں سمیت تمام ستر کے ستر شہدا پر صادق آتا ہے -

اس سلسلے میں ایک بیان جو حدیث پاک میں آیا ہے، آپ بھی سن لیں تا کہ آپکو علم ہو سکے کہ یہ '' اذخر '' آخر ہے کیا ؟ درج ذیل میں حدیث پاک کا صرف وہ حصہ پیش کیا جا رہا ہے جو '' اذخر '' کو واضح کر رہا ہے -
'' احمد بن یونس، زہیر، اعمش، شفیق، حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو احد کے دن شہید ہوئے اور ایک دھاری دار چادر چھوڑ گئے اور ( بطور کفن ) جب اس سے ان کا سر چھپایا جاتا تھا تو پیر کھل جاتے تھے اور جب پیر چھپائے جاتے تھے تو سر کھل جاتا تھا - آخر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو یا یہ فرمایا کہ پیروں پر تھوڑی سی اذخر گھاس ڈال دو ''
آج کی تصویر میں احد پہاڑ کے شمال میں اگنے والی اسی گھاس یعنی'' اذخر '' کی تصویر پیش کی جارہی ہے جو سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت شہدا احد کے طاہر جسموں کے کفن بننے کا اعزاز پاگئی اور ہمیشہ کے لیے متبرک اور مقدس ہو گئی -

دامن احد کی یہ ایک خاص سوغات ہے اور یہ خوشبو دار گھاس بہت سی بیماریوں کا علاج بھی متصور کی جاتی ہے - اسکی بھینی بھینی خوشبو سب کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ '' جب احد آؤ تو یہاں کی کوئی چیز ضرور کھاؤ خواہ وہ خار دار کانٹے ہی کیوں نہ ہوں '' -
گو کہ خوصو صی طور سے اذخر گھاس کھانے کا حکم نہیں ہے . آپ کوئی بھی پودہ کھا سکتے ہیں تاہم کیا اچھا ہو کہ ہم جب احد جائیں تو اسی گھاس یعنی '' اذخر '' کو بطور تبرک کھائیں - اور جب آپ یہ کھائیں اور آپکے ذھن میں اس گھاس سے متعلق ایک بات اور ہو تو شاید '' اذخر'' سے آپکی عقیدت اور بڑھ جایے اور آپ والہانہ اس سے محبت کرنے لگیں -
وہ بات یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چہیتی بیٹی سیدہ بی بی فاطمه رضی الله و تعالی عنہا کو آپکی شادی کے موقعہ پر آپکے ہونے والے خاوند سیدنا علی رضی الله و تعالی عنہ کی زر بکتر فروحت کر کے جو جہیز دیا اسمیں دی جانے والی تکیہ مبارک میں یہی مبارک خوشبو دار '' اذخر گھاس '' بھری تھی -
رشک کرتا ہوں میں گنہگار احد کے دامن میں اگنے والی اس
'' اذخر گھاس '' کی قسمت پر -


Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST