Picture Gallery 9
==============
  دھرواں کا کنواں


==============================================

مسجد نبوی کے باہر اگر قبله رونگاہ اٹھا کر دیکھا جایے تو ہمیں ایک فایو اسٹار ہوٹل '' فندق مدینہ موفنبيك ''نظر آے گا - اس لگزری ہوٹل کے ساتھ آپکو دوسرے اور بہت سے بلند و بالا ہوٹل بھی نظر آیین گے - یہیں ایک مشہور عمارت '' شریعہ کورٹ '' کی بھی ہے ( اس تصویر میں ففندق مدینہ موفنبيك كولال تیر کے نشان سے واضح كيا گیا ہے )

یہ ہوٹل جنت البقیع کی دیوار کو اپنے باہین ہاتھہ پر رکھہ کر قبلہ رو چلنے کے بعد سامنے آنے والی پہلی سڑک '' شارع سیدنا ایوب انصاری '' اور مزید آگے انے والی بڑی سڑک '' شارع ملک فیصل '' کے درمیان واقع ہے -

حاجی اور زایرین عمرہ ان عمارتوں کے گرد گھومتے پھرتے ہیں - اور کچھ تو ان ہوٹلوں میں قیام بھی کرتے ہیں لیکن کم ہی کو معلوم ہے کہ اس علاقہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسمانی زمانے میں '' بنو زریق '' نامی قبیلہ آباد تھا - اور اس علاقہ کے دو مقامات تاریخی لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں جن میں سے ایک مقام وہ ہے جہاں بعد میں ایک مسجد بھی بنا دی گیئ تھی لیکن جدید تعمیر کے بعد وہ مسجد اب موجود نہیں تاہم مقام ان ہی ہوٹلوں کے درمیان کہیں ہے - اس مقام کی خصو صیت یہ ہے کہ مدینہ کی فضاؤں میں پہلی مرتبہ ''قرآن پاک '' کی تلاوت یہاں کی گیئ -

یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابھی مدینہ ہجرت نہیں کی تھی اور مکّہ میں بارہ مدینہ کے لوگوں نے منی میں عقبہ کے مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہاتھوں خفیہ طور پر اسلام قبول کیا تھا جسکو'' بعیت عقبہ اول '' کہتے ہیں- ان بارہ افراد میں ایک '' سیدنا رافع بن مالک " تھے جنہوں نے مدینہ واپس آکر اس مقام کے آس پاس جہاں آج یہ ہوٹل قائم ہے ، پہلی مرتبہ مدینہ کی فضاؤں میں قرآن پاک کی تلاوت کی اور اہل مدینہ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا پیغام سنایا-

'' بنو زریق ''( موجودہ--- '' ففندق مدینہ موفنبيك '' )
کے علاقے میں'' دھرواں '' نام کا وہ تاریخی کنواں موجود تھا جسمیں ایک منافق '' لبید بن اعصم '' نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گیسو مبارک پر جادو کر کے ایک کنگھی, کافور اور کھجور کے درخت کی چھال کے حصوں کی مدد سے ان مبارک بالوں کو بٹ کر اسمیں گیارہ گراہیں لگائیں اور ہر گراہ میں ایک سوئی پیوست کر کے اس نا عاقبت منافق انسان نے اسکو بنو زریق ''( موجودہ--- ہوٹل '' ففندق مدینہ موفنبيك '' ) کےعلاقے میں موجود'' دھرواں '' نامی کنویں میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا -

اس جادو سے رسول مکرم سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کی صحت مبارک خراب رہنے لگی - کافی عرصے بعد الله کی مدد سے آپ کو دو فرشتوں نے خواب میں پوری خبر دیئ کہ وہ کون انسان ہے جس نے یہ عمل قبیح کیا - ''دھرواں'' کے اس کنویں اور اس کے مقام کی خبر دی گیئ اور قرآن پاک کی دو مشھور سورتیں '' سوره فلق '' اور ''سوره الناس '' کی تلاوت کرنے کی ہدایت کی جو نازل تو مکّہ میں ہوئیں مگر انکی انفرادیت اور اہمیت یہاں مدینہ میں واضح ہوئی -

ان کی آیات کی کل تعداد بھی گیارہ ہے جو ان گیارہ گانٹھوں کے مساوی ہیں جو اس شیطان نما شخص نے جادو کے لیے گیسو مبارک میں لگائیں تھیں -

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے , بی بی عایشہ رضی الله تعالی عنہا سے فرمایا کہ میں نے جب اس کنویں کے پانی کا رنگ دیکھا تو وہ ایسا سرخ تھا جیسے مہندی - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس بالوں کی گانٹھوں کو اس طرح کھولا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم '' سوره فلق '' اور '' سوره الناس '' کی ہر ایک آیت پر ایک گراه کھولتے جاتے اور جب یہ گیارہ آیات مکمل ہوئیں تو ان بالوں میں لگی گیارہ گراہین بھی کھل گیئں اور یوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر کیے گیے جادو کا اثر بھی زائل ہو گیا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فوری طور سے اس کنویں کو بھروادیا -
====================================
حاجی اور زایرین عمرہ کو چاہیے کہ وہ جب مسجد نبوی تشریف لیے جائیں تو اسکے قبلہ رو موجود اس سپر لگزری ہوٹل '' ففندق مدینہ موفنبيك '' کے گرد و نواح میں کھڑے ہوکر یہ ضرور تصور باندھیں جسکا ذکر اوپر کیا گیا ہے تاکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس کرب کا اندازہ ہوسکے جو انھیں منافق '' لبید بن آسسام '' کے شیطانی جادو سے ہوا .- اور یہی تاریخی واقعہ سوره الفلق اور سوره الناس کی انفرادیت اور اہمیت کا محرک بنا - اور الله سپحان و تعالی نے اسی کرب ناک واقعہ میں جسکی تکلیفیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جھیلیں ، امّت مسلمہ کے لیے اس طرح رحمت پنہاں کردی کہ یہ دونوں خوبصورت سورتیں قیامت تک کے لیے امت کے لیے شفایابی کی سورتوں کا تحفہ قرار پا گیئں
==========================


Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST