Picture Gallery 8





.-( سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہ ( مسجد نبوی میں
)

 سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہ ( مسجد نبوی میں )

=====================================
مرد حضرات جب مواجہ شریف کے سامنے کھڑے ہو کر روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم پر نذرانہ سلام پیش کر رہے ہوتے ہیں تو انکی پشت پر قبلہ رو آج بھی ایک کھڑکی نما جگہ موجود ہے جہاں آج کل ٹی کیمرہ بھی لگا ہے جو آپکو اوپر کی تصویر میں نظر آرہا ہے - گویا یہ کھڑکی مسجد النبوی کی پہلی صف کے انتہائی بائیں جانب روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم کے سامنے موجود ہے -

یہ بڑا تاریخی مقام ہے - اس مقام پر ایک ایسے صحابی کا مکان تھا جو بذات خود بھی عظیم صحابی ہیں اور انکا مرتبہ اپنے والد صحابی کی وجہ سے بھی بہت بلند ہے - یہ بھی روایت ہے اور الیاس عبدالغنی نے اپنی کتاب '' تاریخ مدینہ المنوره '' میں لکھا ہے کہ سیدنا بلال حبشی رضی علاج تعالی عنہ نے اس مکان کے پلر پر کھڑے ہوکر اذانیں بھی دی ہیں -

یہ بھی مرقوم ہے کہ جب مسجد النبوی کی سامنے کی جانب توسیع کی گئی تو تمام مکانات ختم کردیے گیے سوائے اس مکان کے اور اس مکان کو پکی اینٹوں سے گھیر کر دروازہ لگا دیا گیا جو عین اس مقام پر تھا جہاں آج یہ کھڑکی موجود ہے -

اور اس دروازے پر (جو اب کھڑکی کی صورت میں نظر آرہی
ہے) ایک عبارت بھی لکھہ دی گئی تھی - یہ دروازہ براہ راست مسجد النبوی کے توسیع حصے میں کھلتا تھا - کتابوں میں لکھا ہے 165 ہجری تک اس عظیم صحابی کے گھر والے ( گویا آیندہ کی انکی نسلیں ) اس دروازے کو مسجد النبوی میں آنے کے لیے استمعال کرتے رہے - پھر اس مکان کے مکین ایک زمین دوز راستے سے مسجد النبوی تک آنے لگے اور یہ راستہ موجودہ مسجد النبوی میں محراب عثمانی ( جہاں آج کل امام صاحب کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے ہیں ) کی پشت پر موجود ستونوں کی دوسری رو کے قریب کہیں نکلتا تھا -

ان عظیم صحابی کے تمام قریبی گھر والوں کے انتقال کے بعد اس زمین دوز راستے اور مکان کو تالہ لگا کربند کر دیا گیا - اس وقت کی حکومت حج کے زمانے میں زیارت کے پیش نظر اس راستے اور مکان کو کھول دیتی تھی اور یہ سلسلہ 888 تک چلتا رہا - لیکن اس کے بعد حج کے موقع پر بے انتہا رش ہو جانیے کے باعث اس وقت کے سلطان اشرف قاتبائی نے اس زمین دوز راستے اور اس مکان کو ہمیشہ کے لیے بند کروا دیا لیکن تقریبا'' چودہ سو سالوں سے یہ کھڑکی جو آپ اوپر دیکھ رہے ہیں اس عظیم صحابی کی رہایش گاہ کے طور پر بطور نشانی موجود ہے لیکن آج کے حجاج اور معتمرین معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس عظیم زیارت گاہ کو محض ایک کھڑکی سمجھتے ہیں اور شاید ہی کوئی ہو جو اس پر نگاہیں مرکوز کرتا ہو -

اب آپ جب مدینہ المنوره بلاے جائیں تو اس مقام کو ضرور دیکھیں. مرد حضرات تو اسکو بہت آسانی سے دیکھ سکتے ہیں - خواتین شاید اس مقام تک نہ پہنچ سکیں - انکے لیے ایک ٹپ دیتا چلوں - اگر آپ ٹی وی پر مسجد النبوی کی مغرب کی اذان دیکھیں تو اذان سے کچھ قبل اور اذان کے بعد کچھ دیر تک جو روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی جالیاں دکھائی جاتی ہیں اور ہمیشہ دکھائی جاتی ہیں وہ اس کھڑکی (جو کبھی ایک عظیم صحابی کے گھر کا دروازہ تھا ) پر لٹکے اسی کیمرے سے روز آنہ لی جاتی ہیں جو آپکو اھلا'' کی آج کی تصویر میں نظر آ رہا ہے -

سب کچھہ تو میں نے آپکی خدمت میں پیش کر دیا ہے - آپ صرف یہ بتادیں یہ کس صحابی کا مکان تھا ؟ اور اس مکان کے دروازے پر کیا لکھا تھا جو سیکڑوں سال لکھا
رہا -?- واضح رہے ایک دلچسپ بات کہ کہ ان صحابی کی قبر مبارک مدینہ المنوره میں نہیں بلکہ مکّہ المکرمہ میں ہے -

===============================
جواب
=====
یہ خلیفہ دوم سیدنا   عمر رضی الله تعالی عنہ کے بیٹے اور عظیم صحابی '' سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہ '' کا مکان تھا - اور اس تصویر میں نظر انے والی کھڑکی کی جگہ جو دروازہ نسب تھا اسپر سالوں سال یہ عبارت درج تھی :-

'' سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنہ کے بچوں کا مکان ''

باقی اس مکان کی مکمل فضیلت  میں نے اوپر سوال میں پیش کر دی ہے - آپکی شہادت مکّہ مکرمہ میں ہوئی اور آپکی قبر مبارک مکّہ کے محلہ ''شهد ا '' میں موجود ہے جہاں ایک مسجد ''شهد ا '' بھی موجود ہے -
اسکی تفصیل ''مکھ '' کے سیکشن میں دی گی ھے
-


=====================================-.,
Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST