PICTURE GALLERY 3
====================

مسجد عقبہ


آج کے جدید منی ( MINA ) کے میدان میں جہاں ہر چیز اور ہر مقام کو عہد حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے گیا ہے وہیں زیر نظر مسجد اب بھی اپنی پرانی حالت میں ہی موجود ہے -
منی ( mina ) میں جہاں منی ( mina ) کی مرکزی مسجد '' مسجد خیف '' اب ماڈرن تعمیرات کا شاہکار نظر آتی ہے تو وہیں تینوں جمرات [ شیطان ] کے ستوں اب دو ہیکل اسکرین یا دیوار کی شکل میں اس طرح ایستادہ ہیں کہ ان پر اب تین منازل سے سنگ باری کی جاسکتی ہے - منی( mina ) کے خیمے اب صرف خیمے نہیں بلکہ کنکریٹ کے اچھے خاصے ایرکنڈیشن روم کی شکل دھار گیے ہیں -
منی( mina ) میں چوڑی اور تیزرفتار سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے جو عقلوں کو متحیر کیے دیتا ہے - خوبصورت اور تیزرفتار ٹرینیں حاجیوں کو لیکر اٹھلاتی ہوئی اس طرح منی ( mina ) کے خیموں کے اوپر سے گزرتی ہیں جس طرح آزاد پرندے مست ہوکر پر پھیلائے کھلی فضاؤں میں محو پرواز ہوتے ہیں -
لیکن ان جدید سہولتوں سے آراستہ منی ( mina ) میں آج بھی منی ( mina ) کے ایک پہاڑ
'' جبل شبیر '' کے دامن میں ایک ایسی سادہ سی مسجد موجود ہے جو شاید مادی تقاضوں کے لحاظ سے زیادہ دلکش نہ ہو لیکن اگر حاجیوں کو یہ علم ہو جایے کہ یہ مسجد اپنے اندر کس قدر روحانی لطافت رکھتی ہے تو یقینا'' وہ اس مسجد کی زیارت کیے بغیر منی ( mina ) سے واپس نہیں آئین -
اھلا'' کے فورم سےآج آپکی خدمت میں اسی مسجد کی ایک تصویر پیش کی جارہی ہے - یہ وہ مقام متبرک ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ ایک ایسا تاریخ ساز واقعہ پیش آیا جس نے اسلامی تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا اور اسی واقعہ کی وجہ سے شاید ہم سب بھی آج مسلمان ہیں -
ویسے تو اس مسجد کے دو اہم نام ہیں لیکن ایک نام اسی تاریخی واقعہ پر
رکھ گیا ہے جب کہ دوسرا نام اس کی لوکیشن کی نسبت سے پڑ گیا -
کیا آپ بتا سکتے ہیں اس مسجد کا کیا نام ہے اور یہاں کون سا تاریخی واقعہ دو مرتبہ پیش آیا -

منی ( mina ) میں جبل شبیر کے دامن میں واقع اس مسجد کے تین نام ہیں -
١- مسجد عقبہ--- یہ نام اس لیے ہے کہ یہ مسجد جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کے ستوں کے سامنے موجود ہے -
٢- مسجد ابراھیم ---- اس مقام پر نبی ابراھیم علیہ سلام نے بھی قیام کیا تھا - اسی لیے اس مقام کو دنیا کی پرانی عبادت گاہ ہونے کا بھی شرف حاصل ہے - اور
٣- مسجد بیعت ----- اس مقام پر کیوں کہ رسول للہ صلی الله علیہ وسلم نے حج کے موقع پر مسلسل دو سال اہل مدینہ سے ملاقات کی اور مدینہ کے لوگوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں پر نہ صرف بیعت کی بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو مدینہ ہجرت کی پیش کش بھی کی اور یہی تاریخی بیعتین آپ صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کا محرک بنیں -
یہ اس وقت کی بات ہے جب حج اور دیگر عبادت فرض تو نہیں ہوئی تھیں لیکن ایام حج کے دوران نفلی حج بہرحال ضرور کیا جاتا تھا - حج کے واضح مروجہ اصول تو ظاہر ہے اسوقت نہیں تھے لیکن یوم عرفہ روایتی انداز میں وقوع پذیر ہوتا تھا -
رسول الله صلی الله علیہ وسلم حج کے موقع پر عقبہ کے مقام پر دین کی ڈھکی چھپی تبلیغ کر رہے تھے کیوں کہ یہ طلوع دین کا انتہائی ابتدائی زمانہ تھا اور مسلمان بہت کمزور تھے کہ دوران تبلیغ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ملاقات اسوقت کے شہر
'' یثرب '' یعنی آج کے '' مدینہ منورہ '' کے چھہ یہودیوں سے ہوئی جنہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی تبلیغ پر لبیک کہا اور توریت کے ایک فرمان کہ '' ایک آخری نبی آنے والے ہیں '' کو ذہن میں رکھتے ہوے جب آپ صلی الله علیہ وسلم کی باتوں کو سنا تو انھیں یقین ہو گیا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہی وہ آخری نبی ہیں - وہ چھہ کے چھہ یہودی اسی مقام پر مسلمان ہو گیے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں پر انہیں نے بیعت کرلی -
یہ الله سبحان و تعالی کی جانب سے ایک غیبی مدد تھی کیوں کہ اس بیعت کے بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوے - ان چھہ نومسلم اصحاب نے یثرب جاکر اس بات کا تذکرہ کیا تو اگلے سال ستر کے لگ بھگ انصار ( یثرب کے لوگوں کو کہاجاتا تھا ) حج کی موقع پر اسی مقام جہاں زیرنظر مسجد موجود ہے ، حاضر ہوۓ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں پر نہ صرف بیعت کی بلکہ انھیں مدینہ یعنی یثرب ہجرت کرنے کی
درخواست بھی کی اور یقین دلایا کہ وہ ہر طرح سے آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مدد بھی کریں گے -
یہ سب الله سبحان و تعالی کی حکمتیں تھیں کہ اس طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کی راہیں ہموار ہو رہی تھیں - اس مقام پر ہونے والی ان دونوں بیعتوں کو '' بیعت عقبہ اول '' اور '' بیعت عقبہ ثانی '' کہتے ہیں اور سمھجنے والوں کے لیے یہ مقام نہایت روحانی اہمیت کا حامل ہے کیوں جس وقت اہل مکّہ آپ صلی الله علیہ وسلم پر زمین تنگ کر رہے تھے وہیں اس وقت الله سبحان و تعالی کی مشیت سے اہل مدینہ ، مدینہ کی زمین پر آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیے بڑی محبت سے اپنی نظریں بچھانے ہوۓ تھے اور اس مقام پر ہونے والی یہ دونوں بیعتیں آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں اور یوں '' مسجد عقبہ '' کا یہ مقام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا -
=====================================================
اھلا'' ویب سایٹ پر اس تاریخی مسجد کے متعلق اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نہ صرف سیر حاصل تفصیل موجود ہے بلکہ انگریزی سیکشن پر تو چند مزید خوبصورت تصاویر بھی موجود ہیں تو کیا اچھا ہو کہ آپ مکمل تفصیل کے لیے اھلا'' کے ان دونوں لنکس کو کلک کریں -
http://www.ahlanpk.org/mak-uqba.htm
http://www.ahlanpk.org/makmas1.htm#masubqa


Next Gallery
PREVIOUS GALLERY
PIC GALLAR LIST