PictureGallery 20
===============
 کعبہ مشرفہ کےکلید بردار


علامھ قسطلانی '' مواہب لدنیہ '' فرماتے ہیں کہ '' طبقات ابن سعد '' میں ہے کہ عثمان بں طلحہ الشعبی کے بقول کہ ہم زمانھ جاھلیت میں کعبھ مشرفہ کا دروازہ ہر پیر اور جمعرات کو کھولا کرتے تھے ( واضح رھے یہ اس وقت تک مسلماں نہیں ہؤے تھے اور یہ کعبھ مشرفہ کے کلید بردار تھے اور اس وقت تک کعبھ مشرفہ پر کفار کا تسلط تھا - )
بقول عثمان بں طلحہ الشعبی ایک روز نبئ کریم صلی الله علیھ وسلم میرے پاس تشریف لایے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھہ کعبہ مشرفہ میں داخل ہونا چاہا تو معاذ الله میں نے دروزاہ بند کردیا - گویا معاذ الله میں نے آپ صلی الله علیھ وسلم ثے برا کیا لیکں آپ صلی الله علیھ وسلم نے حلم اور بردباری کا اظھار فرماتے ہؤے فرمایا '' اے عثمان تم عنقریب کعبہ مشرفہ کی یہ چابیاں میرے ھاتھوں میں دیکھو گے اور میں جس کے ھاتھوں میں چاھوں گا یہ چابیاں رکھہ دوں گا - اسپر میں نے کہا '' اس دں تو پھر قریش ہلاک ہو جایں گے ؟ '' آپ صلی الله علیھ وسلم نے فرمایا '' نہیں بلکہ وہ اس دں صاحب عزت ہوں گے ''
عثمان بں طلحہ الشعبی مزید کہتے ہیں کہ جس دں مکہ فتح ہؤا مجهے آپ صلی الله علیھ وسلم کے الفاظ یاد آ گے اور میں نے سوچا اب وہی ھوگا جو ' آپ صلی الله علیھ وسلم چاھیں گے - پھر رسول مکرم صلی الله علیھ وسلم نے مجھہ سے کعبہ مشرفہ کے دروازے کی چابی طلب کی جو میں نے انھیں پیش کردی - اور پھر آپ صلی الله علیھ وسلم نے وہ چابی نہ صرف مجھے واپس کردی بلکہ ارشاد فرمایا '' یہ خدمت ھمیشہ تمھارے پاس ہی رهے گی - گویا قیامت تک تمھارا شعبی خانداں ہی کعبہ مشرفہ کے دروازے کی چابی کا رکھوالا ھوگا اور کوی ظالم ہی تمھارے خانداں سے اسے چھینے گا - ا ے عثمان الله تعالی نے تمہیں اس گھر کا نگھبان بنایا ھے -
اپ صلی الله علیھ وسلم کی شان کریمی پر دل جھوم جاتا ھے اور انکھیں نم ھؤ جاتی کہ انتقام تو دور کی بات ، آپ صلی الله علیھ وسلم نے عثمان بں طلحہ الشعبی کو شرمندگی کا سامنا بھی نہ کرنے دیا - مفسرین کی راے کے مطابق '' سورہ النسا '' کی ایت ٥٨ کی شان نزول بھی فاتح مکھ کے اس موقع کو قرار دیا ھے جس میں باری تعالی فرماتے ھیں : -
'' بے شک الله تعالی تمھیں حکم دیتا ہے کھ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کر دو جو انکے اھل ھیں '' --- '' سورہ النسا ایت ٥٨ ''
اس دن سے الحمد الله کعبہ مشرفہ کے دروازے کی چابی کے محافظ ''الشعبی '' خانداں ھے - اور اس وقت سے لیکر آج تک حجاز کے حکمرانوں تک کو جب کبهی
کعبہ مشرفہ کے دروازے کو کھولنے کی ضرورت پیش اتی ھے تو انھیں الشعبی '' خاندان '' کے محافظ سے اس کی اجازت لینی پڑتی ھے - بعد میں عثمان بں طلحہ الشعبی مسلماں ھؤ گے تھے -
زمانہ جاہلیت اور اسکے بعد روشی کی کرنوں کے پھیلنے سے آج تک 'الشعبی '' خاندان ہی اس چابی کا محافظ ہے - یہ چابی اس خاندان کے سب سے عمر رسیدہ شخص کی تحویل میں رہتی ہے اور جب تک اسکا انتقال نہ ہو جایے کسی اور کو منتقل نہیں کی جاتی اور جب اسکا انتقال ہو جے تو اس ہی خاندان کے دوسرے عمررسیدہ شخص کے حوالے کر دی جاتی ہے - یہ نہیں ہوتا کہ باپ کے انتقال کے بعد چابی بڑے بیٹے کے حوالے کر دی جاے- گویا خاندان تو وہی ہوگا مگر وراثت والا تصور نہیں ہو گا -
الشیبی خاندان پندرہ سو سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے - اور ہر حکمران نے اس خاندان کی تعظیم کی ہے - اس وقت اس خاندان کے ٣٧٠ افراد موجود ہیں اور انمیں سے زیدہ تر مکّہ میں ہی رہتے ہیں -
اکتوبر ٢٤ سں ٢٠١٦ کو اس اس خاندان کے آخری کلید بردار عبد القادر بں طلحھ الشیبی کا انتقال ہوگیا اور انکو مکّہ کے جنت الملا قبرستان میں دفنانے کے بعد یہ چابیاںصالح پن زین العابرین الشعیپی کے حوالے کی گیں جو شعبی خانداں کے ایک سو نویں ( ١٠٩) کلید بردار ہہیں - اوپر کی تصویر ان ہی چابیوں کوصالح پن زین العابرین الشعیپی کے حوالے کرنے کے موقع پر لے گی ہے - کعبہ مشرفہ کی چابیاں ان سبز کپڑے کے تھیلوں یا غلافوں میں رکھی جاتی جسکو عربی میں
'' کسوا لمفتاح لکعبہ '' کہتے ھیں ---
کعبہ مشرفہ سال میں تین بار غسل ور غلاف کی تبدیلی کے لیے کھولا جاتا ہے اور یہ پورا عمل کلید بردار کی نگرانی میں ہوتا ہے اور اب یہ عزاز آج کل صالح پن زین العابرین الشعیپی کو حاصل ہے جنکو اوپر والی تصویر میں دکھایا گیا ہے - اور یہی وجہ ہے کھ یہ ہم سب سے منفرد اور خوشقسمت انسان ہیں -


Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST