PictureGallery 17
==============
 قبرفاطمہ بنت اسد
( والدہ سیدنا  علی )
==============


زیر نظر تصویر میں دو قبور نظر آ رہی ہیں - یہ دونوں قبور مدینہ منورہ كۓ مقدس ترین قبرستان جنت البقیع میں موجود ہیں جہاں ہزاروں ساکنان جنت محو استراحت ہیں - ان دونوں قبور میں سے ایک قبر تو عظیم صحابی '' سیدنا ابو سعید خذری رضی الله تعالی عنہ '' کی ہے جبکہ دوسری قبر مبارک '' سیدہ فاطمہ بنت اسد '' کی ہے جن کو اسلامی تاریخ میں بہت بلند مقام حاصل ہے - آپ جب بھی جنت البقیع تشریف لیے جائیں اس عظیم ہستی کو قبر مبارک کی زیارت کو نظر انداز نہ کریں کیوں کہ ایک خاص رشتہ ہے انکا رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس سے - -

یہ عظیم صحابیہ کیوں عظیم ہیں یہ جاننے کے لیے درج ذیل میں پڑھیں -


صحابیۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہاحضرت ابو طالب کی زوجہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی والدہ تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی خاطر خانہ کعبہ کی دیوار میں شکاف ہوا اور آپ تین دن تک کعبہ کے اندر رہیں اور وہیں حضرت علی بن ابی طالب کی ولادت ہوئی۔

وہ پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت کی۔ آپ حضرت ابو طالب کے چچا کی بیٹی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا حضرت ہاشم کی پوتی تھیں۔ سن وفات 626ء ہے۔ آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تین سال شعب ابی طالب میں صعوبتیں بھی برداشت کیں جب قریش نے مسلمانوں کا معاشرتی مقاطعہ کیا تھا۔

آپ کی وفات 626ء میں ہوئی جس کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انتہائی دکھ ہوا۔ ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب حضرت فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا:-

اے میری ماں اللہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ بہت دفعہ آپ نے مجھے کھلانے کے لیے خود بھوک برداشت کی۔ آپ نے ایسی اچھی چیزیں مجھے کھلائیں اور ایسا اچھا پہنایا جن سے آپ نے خود کو محروم کیا۔ اللہ یقیناً آپ کے ان اعمال سے خوش ہے۔ یقیناً آپ کی نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت میں کامیاب ہونا تھی۔

اس کے بعد انہوں نے ان کی قبر مبارک کے رکھنے کے لیے اپنا کرتہ عنائت فرمایا اور ان کی قبر میں خود اتر کر لیٹے اور اسے ملاحظہ کیا - ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ
ﻣﺎﻧﮕﯽ:

ﺍﻟٰﮩﯽ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ
ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﻭﺳﯿﻊ ﮐﺮﺩﮮ۔
ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ
ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﮯ، ﺗﻮ ﺷﺪّﺕ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺭﯾﺶ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ
ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ
ﺳﮯ ﺍٓﻧﺴﻮ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

اور پھر حضرت فاطمہ بنت اسد کا جسم اقدس اس میں اتارا۔

حضرت فاطمہ بنت اسد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بیٹے کی طرح پالا جب ان کے دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات ہوئی اور وہ حضرت ابو طالب کے زیرِ کفالت آئے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ماں سمجھتے تھے اور کہتے تھے۔ جب بھی وہ حضرت فاطمہ بنت اسد کو دیکھتے تو احتراماً کھڑے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی اولاد درج ذیل ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ
حضرت جعفر بن ابی طالب المعروف بہ جعفر طیار
حضرت عقیل ابن ابی طالب
طالب ابن ابی طالب
ام ہانی
جمانہ
==========



Next Gallery

PREVIOUS GALLERY

PIC GALLAR LIST