
QUIZ NO. 56
SEE THE PIC AND ANSWER
آنکھیںپر نم ہو گئیں اور میںاپنی کمسن اکلوتی بیٹی اقصی کا ہاتھ تھام کر اسمقام سے روتا ہوا
حرم کعبہ کی جانب چل دیا اور اقصی
معصومیت سے پوچھتی ہیرہ گئی---- " پپا آکیا ہوا آپکو؟ اپ رو کیوں رہے ہیں ؟ ___________________________________________________________________________________
FIRST the question given inurdu then in english ---------------------------------------- --------------------
سوال مسجدالحرام کے باب العمرہ سے باہر نکل کر اگر سیدھے ہاتھ کی جانب تھوڑا ساترچھا چلا جائے تو چند قدموں کے فاصلے پر دو تین سڑکوں کا سنگم ہے جہاںایک ٹریفک سگنل بھی لگا ہے - ان سڑکوں کو کراس کر کے آگے بڑھاجایے تووہاں ایک لمبی دیوار نظر آتی ہے جو سڑک کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے - اس دیوارکے اختتام پر ایک گیٹ لگا ہے - اس گیٹ سے اگر اندر کے جانب دیکھا جایےہمیں ایک بانڈری وال کے اندر ایک چھوٹا سا بنجر ، بے آباد اور غیر زی روحزمین کا قطعہ نظر آتا ہے جو آج کے تصویر میں آپکی خدمت میں بھی پیش ہے - آجحرم مکی کے چاروں اطراف بلند و بالا ، خوبصورت اور جگ مگ کرتی لا تعدادعمارتیں اور شاپنگ پلازہ موجود ہیں جنہیں دیکھ کر امریکہ اور یورپ کیعمارتیں گہنا ئی اور شرمائی نظر آتی ہیں -لیکن ان جگمگاتی ہوئی عمارتیں کےبیچ یہ چھوٹا سا قطعہ ارضی آج بھی بنجر اور بے آباد کیوں ہے؟ - کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ کون سا مقام ہے اور یہ جگہہ آباد کیوں نہیں ہو پاتی؟ اوراس مقام کو دیکھ کر میری آنکھیں کیوں پر نم ہو گئیں اور میں کیوں روتا ہوااپنی کمسن اکلوتی بیٹی اقصی کا ہاتھ تھام کر اس مقام سے حرم کے جانب چلدیا - اور پھر اپ کے پاس ایسی لاتعدادتصویر اور معلومات کے لیے وسیم کی ویب "اہلا" تو ہے ہی
- CLICK http://www.ahlanpk.org
/ ---------------------------------------------------- ---------------------------------------------------- جواب نوٹ کر لیں پلیز
------------------------------
اسسوال کا بہت سے دوستوں نے درست جواب دیا اور وہ سب یقینا'' مبارکبادکےمستحق ہیں -اھلا'' کویز کے پلیٹ فارم سے یہ سوال رومن اردو میں پہلے بھیپوچھا جا چکا تھا لیکن نیے دوستوں کو اس اہم مقام... کی معلومات دینے کےلیے ضروری تھا کہ اس سوال کو دوبارہ پوچھا جایے -
یہ تصویر " مقبرہشبیکہ " کی ہے - عربی میں مقبرہ قبرستان کو کہتے ہیں جبکہ شبیکہ حرم کےقریب مکّہ کے اس محلے کا نام ہے جہاں یہ قبرستان موجود ہے - پیارے آقا وسرکار سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کی بعثث سے پہلے ایام جہالت میں اہلمکّہ کے یہاں یہ رسم قبیح عام تھی کہ وہ بیٹیوں
( لڑکیوں ) کے پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ دفن کر دیا کرتے تھے -
جسمقام پر اہل مکّہ آپکی نوزائدہ بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ، یہاس ہی مقام کی تصویر ہے جو مکّہ کی بلند و بالا، پر شکوہ عمارتوں کیدرمیان آج بھی ویسے کا ویسا ہی موجود ہے - اور اس مقام کی زیارت کرتےہوتے، محسوس کرنے والوں کو آج بھی احساس ہوتا ہے کہ کہیں سے دبی دبی یہآوازیں آرہی ہیں کہ اے زندہ رہ جانے والوں میں سے کوئی ہمیں یہ بتاے کہ ہممعصوم بچیوں کا کیا قصور تھا کہ ہمیں دنیا میں چند سانسیں لینے سے پہلے ہیزندہ درگور کر دیا گیا - اس مقام پر آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا لازمی ہے -
مکّہمیں حرم کے اطراف کی ایک انچ زمین بھی سونے کے بھاؤ ہے اور شائد ہی یہاںکا کوئی چپہ اب اپنی اصلی حالت میں ہو اور خالی یا بیکار پڑا ہو لیکن
" مقبرہ شبیکہ " کی زمین آج بھی ویسی کی ویسی اپنی اصل حالت میں موجود ہےاور کہا جاتا ہے کہ جب بھی اس مقام پر کچھ تعمیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہےتو کوئی نہ کوئی رکاوٹ آڑے آجاتی ہے اور کام وہیں کا وہیں دھرا رہ جاتا ہے - ولاعالم بصواب
اگر آپ اس کے بارے میں مزیدپڑھنا چاہیں اور کچھ اور تصویر دیکھنا چاہیں تو آپ پلیز اھلا'' کے اس لنککو ضرور کلک کریں
متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟
متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟ ========================== =========== مسجد الحرام کے گیٹ نمبر ایک یعنی '' باب عبدلعزیز '' سے باہر نکلیں تو ہمیں سامنے یہ بلند و بلا شاپنگ سینٹر نظر آیے گا جس کی تصویر اوپر دی گئی ہے - دن رات یہاں کی زندگی اتنی
10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی او
10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی اولین خواہش طواف کعبہ ہوتی ہے یا وہ نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں یا پھر سعی کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن میں مسجد الحرام کا ایک ایسا چپہ ہوں جسکی اہمیت
کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی ک
کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی کو اس وقت کے سعودی فرمانروا ''ملک فہد بن عبدالعزیز '' کے حکم پر کعبہ مشرفہ کی از سر نو تزین اور آرائش کے کام کا آغاز ہوا - یہ وہ وقت تھا جب حج کا رش نہ