JAMMA MASJID SUFFA, FEDERAL "B" AREA, KARACHI · waseem_siddiqui99@yahoo.com · aqsa2@cyber.net.pk · faisal@iqbal.as

Facebook

Letters

www.ahlanpk.org/

Saved from https://ahlanpk.org/fbt52.html

QUIZ NO. 52

SEE THE PIC AND ANSWER

‫ بلد الامین ( امن والا شہر مکّہ ) اور یہاں یہ سبکیسے
؟ ---------------------------------------- ----------------------- Pleaseread it first then read QUESTION
اس سوال کو کرنے سے پہلے ایکوضاحت ضروری ہے - اھلا'' کے فورمسے جو معلومات آپ تک پہنچائی جاتی ہے اسمیں مقصد صرف آپ تک بنیادی معلوماتفراہم کرنا ہوتا ہے اور تمام مسلمان بھائی بہنوں میں آپس میں محبت کےجذبات پیدا کرنے ہوتے ہیں اور میں ذاتی طور سے اپنے آپ کوصرف مسلمان تصورکرتا ہوں اور دیں اسلام کے کسی خاص مسلک سے منسلک نہیں کرتا اور مجھے جوچیز جہاں سے اچّھی معلوم ہوتی ہے اپنا لیتا ہوں اور یہی وجہہ ہے کے میرےحلقہ یاران میں سب ہی شامل ہیں - میں تمام رائج مسالک پر یقین رکھنے والےبھائی بہنوں کو جو شرک نہ کرتے ہوں ، الله کو ایک مانتے ہوں اور نبی محمّدصلی الله کو آخری الله کا رسول مانتے ہوں، اپنا بھائی تصور کرتا ہوں کیوںکے میرا یقین کامل ہے کہ یہ سب راستے الله ہی کے جانب جاتے ہیں - اندازجدا جدا ہیں - اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کا دور میں ہم کسی مسلکی احتلافاتکے متحمل نہی ہو سکتے -ہوسکتا ہے ہم سے فقہی اعتبار سےکچھ غلطیاںبھی ہو جاتی ہوں لیکن بنیاد تو بہرحال درست ہی ہے - الله پاک نے تو غیرمسلمین تک کو برا کہنے سے روکا ہےاور جب کہ یہ تو اذانوں کی آواز پر مسجدکر جناب دوڑ لگانے والے ہمارے بھائی ہیں - اور کیا خوب لگتا ہے مسجدالحرام میں ارر مسجد نبوی میں جب ہمارے ایک جانب ہاتھ چھوڑ کرے نماز پڑھنےوالا بھائی اور دوسری جانب رفع الیدین کرنے اور زور سے آمین بولنے والابھائی سلام پھیرنے کے بعد مسکرا کے ہماری جانب دیکھتا ہے اور مصاحفہ کرتاہے - دل میں کوئی عداوت اور رنجش باقی نہیں رہتی - آج کا اھلا'' کاسوال میں نے نئی نسل کو صرف ایک تاریخی حقیقت سے روشناس کرانے کے لیے کیاہے - اور جب انشااللہ میں اسکا جواب دوں گا اسمیں بھی محتاط رہ کر صرفاتنی حقیقت بیان کروں گا جتنی اس پر آشوب وقت میں ہماری نوجوان نسل کوضرورت ہے - اس لیے آپ میں سے جو ساتھ اس کا جواب جانتے ہوں وہ صرف محتاطجواب دیں تاکہ نہ کسی کے دل آزاری ہو اور نہ کسی کا فیورازم ہو -

sawal
----------------------- مکّہکو قرآن پاک میں بلد الامین کہا گیا ہے یعنی یہ امن والا شہر ہے اور اسیوجہہ سے اس شہر میں دنیا کے دوسرے شہروں کی طرح کبھی کوئی افراتفریماشااللہ نظر نہیں آتی اور ہر طرح کا امن و سکون ہے یہاں - لیکناوپر کی تصویر میں حرم مکّہ کے قریب ایک سڑک پر یہ سب کیا ہو رہا ہے - جوبھی ہو رہا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور جو اس کے بعد ہوا وہ بھی ایک تلخحقیقت ہے - کیا آپ بتا سکتے ہیں یہ کیاہورہا ہے اور یہ کس سن میں ہوا اور اس واقعہ میں کونسی تلخ حقیقت پوشیدہ ہے ________________________________________ ‬ __________________ جواب حاضر ہے ============ ٣١جولائی ١٩٨٧ کا دن مکّہ مکرمّہ جیسے پر امن شہر کی تاریخ کا ایک تکلیف دہدن تھا - اس تکلیف دہ دن کا ذکر میں نے گرفتہ دل کے ساتھ اھلا''کے اس سوالجواب کے سلسلے میں صرف دو وجوہات کی بنا پر کیا - اول تو یہ کہہماری نوجوان نسل اس سانحے کی تلخ تاریخ کو جان سکیں اور دوسرے یہ کہ میںاھلا'' کے پلیٹ فارم سے آپکو اس سانحے کے ایک ایسی نادر تصویر دکھلا سکونجو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا تک کے پاس بھی موجود نہیں - ٣١ جولائی١٩٨٧ کو مکّہ میں حرام سے باہر کچھ سو حاجیوں نے امریکا اور اسرئیل کےمسلمانو پر بڑھتے ہوے مظالم پر مظاہرہ کیا - سڑکوں پر یہ پر امن مظاہرہتھا - سعودی سیکورٹی فورس کا کہنا تھا کہ مکّہ کے پر امن شہر میں یہ طریقہکر کچھ مناسب نہیں - یہ اس شہر کے تقدس کے منافی ہے - دونوں اطرافسے مقصد بظاھر نیک تھا لیکن طریقہ کار پر اختلاف تھا - مظاہرین کا کہناتھا وہ پر امن مظاہرہ کر کے دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے امریکی اوراسرئیلی مظالم آشکار کرنا چاہتے ہیں - سعودی حکام کو مقام پر اختلاف تھاکہ مکّہ جیسا شہر اس کے لیے موزوں نہیں - اور پھر وہ ہوگیاجو نہیں ہونا چاہیے تھا - سعودی فورس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہو گئیاور بد قسمتی سے ٤٠٢ ( چار سو دو ) لوگ اس میں ہلاک ہو گیے جسمیں ٢٧٥ ( دوسو پچھتر ) ایرانی حاجی ، ٨٥ ( پچاسی ) سعودی فورس کے لوگ اور ٤٢ ( بیالیس) دوسرے ملکوں کے حاجیہلاک ہوے - ٦٤٩ ( چھ سو انچاس ) لوگ زخمی بھی ہوے - اسسانحہ میں جو لوگ ہلاک ہوے وہ سب مسلمان تھے - وہ وہ لوگ تھے جو اذانوں کیآواز پر مسجد کے جانب بھاگتے ہیں - جو ایک الله کے آگے رکوع و سجود کرتےہیں - اس سانحہ میں کوئی یہودی ، کوئی نصرانی یا کوئی ہندو ہلاک نہی ہوا - ہم مسلکی جھنڈوں کے نیچے پرورشپانے والوں نے اپنی اپنی ٹیلی شیٹ پر شائد یہ درج کیا ہو کہ اس سانحہ میں کلچار سو دو ہلاک ہونے والوں میں اتنے سنی مرے . اتنے شیعہ ، اتنے دیوبندیہلاک ہوے ، اتنے بریلوی . اتنے اہل حدیث جن بحق ہوا اور اتنے ہمبلی - لیکنمزے کی بات یہ ہے کہ یہود اور نصارا نے اپنی ٹیلی شیٹ پر صرف یہ لکھا ہوگاکہ آج چار سو دو مسلمان ہلاک ہو گیے - اور شائد تھوڑا سا مسکرایا بھی ہو - انکواس سے غرض نہیں کہ وہ سنی تھے یا شیعہ یا دیوبندی یا بریلوی یا اہل حدیث - وہ تو یہ جانتے ہیں کہ یہ سب محمّد صلی الله علیہ وسلم کو آخری نبی ماننےوالے وہ مسلمان ہیں جو اگر ایک ہو گیے تو پھر انکی اس دنیا میں دل نہیںگلنی - آج ہم جو اذانوں پر دیوانہ وارمسجدوں کی جانب بھاگتے ہیںاور مختلف فرقوں میں بٹے ہوے ہیں وہ ایک بات کا تہیہ کر لیں لہ ہم ضرورایک دوسرے کا قتل کریں ، ایک دوسرے کی جان کے پیاسے بنیں گے . ایک دوسرےکو کافر بھی قرار دیں گے لیکن اس سے پہلے ہم اپنے ازلی دشمن جس کے لیےرسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے وہ کبھی تمہارے دوست نہیںہو سکتے، انکا متحد ہو کے قلع قمع نہیں کر دے تے - اور قلع قمعکرنے سے بہتر ہے کہ ہم خود متحد ہوکر انکے لئے دعا کیوں نہیں کرتے کہ اللهتعالی ان کافروں کو جو دنیاوی علوم اور تیکنالوجی میں طاقتور ہیں، انکوہدایت دے ، انھیں ایمان کی روشنی عطا فرمایے اور انکی طاقت سے اسلام کوپروان چرھایے - ہمارے پیارے نبی سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم نے بھی تویہی دعا مانگی تھی کہ " یا الله دونوں عمروں میں سے کسی ایک کو مسلمان کردے تاکہ انکا رعب اور دبدبہ مسلمانون کے خلاف استمال ہونے کے بجاےمسلمانوں کے حق میں استمال ہو - " نوٹ : (میں نے یہ سب کچھ لکھ تو دیا ہےلیکن میں کم علم سا انسان ہوں - ضروری نہیں آپ میرے بات یا راے سے متفقہوں. - جزاک الله خیر -)

MAIN QUIZ CONTENT PAGE


NEXT QUIZ

PREVIOUS QUIZ

News and Stories

متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟

متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟ ========================== =========== مسجد الحرام کے گیٹ نمبر ایک یعنی '' باب عبدلعزیز '' سے باہر نکلیں تو ہمیں سامنے یہ بلند و بلا شاپنگ سینٹر نظر آیے گا جس کی تصویر اوپر دی گئی ہے - دن رات یہاں کی زندگی اتنی

10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی او

10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی اولین خواہش طواف کعبہ ہوتی ہے یا وہ نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں یا پھر سعی کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن میں مسجد الحرام کا ایک ایسا چپہ ہوں جسکی اہمیت

کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی ک

کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی کو اس وقت کے سعودی فرمانروا ''ملک فہد بن عبدالعزیز '' کے حکم پر کعبہ مشرفہ کی از سر نو تزین اور آرائش کے کام کا آغاز ہوا - یہ وہ وقت تھا جب حج کا رش نہ