
QUIZ NO. 24 SEE THE PIC AND ANSWER
ایکغلط فہمی کا ازالہ کر لیں --- [ میں پہلے بھی ایسا ہی تھا ]
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرمین الشریفین
وسیم احمد صدیقی خاکی
......پاینر--- ویب سائٹ--- "اہلا
O3OO
-9207471 [پاکستان]
---------------------------------------- -----------------------
FIRST the question given in urdu then in english
======================================
سوال
یہ ایک پرانی تصویر ہے جسمیں ایک مینار نظر آرہا ہے جس پر میں نے ایک سرخڈاٹ لگا دیا ہے - یہ مینار
آج بھی جدید اور خوبصورت تعمیر کے ساتھ اپنی جگہ موجود ہے- اس مینار کوجہاں ایک خاص حصوصیت حاصل ہے وہیں اس کے بارے میں کئی ذہنوں میں ایک غلطفہمی بھی ہے- لیکن یہ پرانی تصویر اس غلط فہمی کا ازالہ کر رہے ہے -
آپ یہ بتادیں کہ :
١- یہ مینار کہاں واقع ہے ؟
٢- اس مینارکا کیا نام ہے ؟
٣- اس مینار کی کیا حصوصیت ہے ؟ اور
٤- اس مینار کے بارے میں آج کل کیا غلط فہمی ہے جس کا یہ پرانی تصویرازالہ کر رہی ہے ؟
٥- اور سرخ تیر سے میں نے جس گلی کے نشان دہی کی ہے ، یہ کونسی متبرک گلیہے ؟
---------------------------------------------------------------------------------- ----------------------------------------
ANSWER
جواب حاضر ہے
-------------------------------------- اس سوال کا جواب چند ساتھیوں نےدرست دیا جسمیں بھائی اسامہ عثمان کا جواب کافی مد لل تھا - وہ اور دیگرساتھ مبارکباد کے لائق ہیں - یہ ایک پرانی تصویر ہے جس میںمسجد الحرام کے ایک دروازے " باب الصفا " پر بنا ہوا مینار نظر آرہا ہے - آج سے ستر سال قبل تک حاجی حضرت صفا مروا کی سعئ کرنے کے لیے اس دروازے سےباہر آتے تھے ارر پھر سعئ کا عمل باہر ایک گلی میں کرتے تھے جس کے دونوناطراف دوکانیں تھیں - گویا ایک بازار تھا جس کے درمیان سعئ کی جاتی تھی - اس مقام کو میں نے اس تصویر میں لال تیر سے ظاہر کیا ہے - مسجد الحرام کے جدید تعمیر کے بعداب یہ گلی مسجد کے اندر لیے لی گیئ ہے اور نہایت خوبصورت سعئ کے جگہ بنادی گیئ ہے - جدید تعمیر کے بعد " باب الصفا " پر اس تصویر میں دکھایے گیے مینار کے جگہ ایک ایک نہایت خوبصورت اور بلندنیا مینار تعمیر کیا گیا ہے - اس مینار کے ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ اسدروازے پر بنا یہ تنہا مینار ہے جبکہ مسجد الحرام کے چار دوسرے دروازوں پربھی اسی طرز کے مینار بنے ہیں لیکن انکی تعداد ہر مینار پر دو ہے - اسلحاظ سے باب الصفا کے ایک منفرد حیثیت ہے - اس دروازے پر کیوں کہ صرف ایکمینار ہے لہذا نۓ لوگوں کو یہ آسانی ہو جاتی ہے کہ طواف کے بعد مطاف میںکھڑے رہ کر جب وہ میناروں کے جانب دیکھتے ہیں تو انھیں جہاں ایک مینار نظراتا ہے انھیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ باب الصفا کا مینار ہے اور سعئ کےلیے انھیں اس جانب جانا ہے کیوں کہ مطاف گول ہے تو وہاں ہر جانب ایک جیساہے محسوس ہوتا ہے مگر باب الصفا کا یہ مینار ایک بڑی نشانی ہے حاجیوں کےلیے- باب الصفا کے جانب جو پہاڑ ہےاسپر آج کل بادشاہ کا ایک محل تعمیر ہے- اس محل کے تعمیر پر بہت سے مکتبالفکر لوگوں کو اعترض ہے - انکا یہ اعترض کسی طور شاید جائز بھی قرار دیاجا سکے مگر ایک غلط فہمی اور ہے کہ باب الصفا پر دوسرا مینار صرف اس لیےتعمیر نہی کیا گیا کہ یہ مینار محل سے کعبہ کو براہ راست دکھنے میں روکاوٹپیدا ا کر رہا تھا - حالانکہ یہ پرانی تصویر ثابت کررہی ہے کہ پرانے وقتوں میں جب بادشاہ کے محل کا دور دور نام و نشان نہیںتھا اس وقت بھی باب الصفا پر ایک ہی مینار موجود تھا. گویا ایک مینار والیروایت پرانی ہے نئی نہیں مزید میناروں اور مسجد الحرام کرمرکزی دروازوں کے تفصیل یا آگہی حاصل کرنا چاہیں تو پلیز اھلا'' کے اس لنککو دیکھیں -
http://www.ahlanpk.org/makholy5.htm#babumra http://www.ahlanpk.org/mak-bsafa.htm
متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟
متکلم اور متکا کہاں کهو گیے ؟ ========================== =========== مسجد الحرام کے گیٹ نمبر ایک یعنی '' باب عبدلعزیز '' سے باہر نکلیں تو ہمیں سامنے یہ بلند و بلا شاپنگ سینٹر نظر آیے گا جس کی تصویر اوپر دی گئی ہے - دن رات یہاں کی زندگی اتنی
10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی او
10 لوگ آتے تو نہیں پر قریب سے گزرجاتے ہیں یہ درست ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام آتے ہیں انکی اولین خواہش طواف کعبہ ہوتی ہے یا وہ نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں یا پھر سعی کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن میں مسجد الحرام کا ایک ایسا چپہ ہوں جسکی اہمیت
کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی ک
کعبہ مشرفہ کو کیوں چھپا دیا گیا ؟ ١٠ محرم چودہ سو سترہ ہجری بمطابق انیس سو چھیانوے عیسوی کو اس وقت کے سعودی فرمانروا ''ملک فہد بن عبدالعزیز '' کے حکم پر کعبہ مشرفہ کی از سر نو تزین اور آرائش کے کام کا آغاز ہوا - یہ وہ وقت تھا جب حج کا رش نہ