Picture Gallery 5


گنبد  خضرا کے نیچے بھی گنبد ہیں
========================================


گنبد خضرا ہر محب رسول صلی الله علیہ و الیہ وسلم کے دل اور روح میں رچا بسا ہے کیوں کہ آج یہی وہ مقام ہے جو ہم گنہگاروں اور رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے درمیان ایک رابطے کی علامت ہے-

یہ حقیقت ہے کہ اس محترم و مکرمگنبد خضرا کی تاریخ دو سو سال سے زیادہ پرانی نہیں لیکن آج کے دور میں کیوں کہ اسکو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ایک خاص نسبت ہے ، اسلئے اس کے دیدار کی خواھش میں ہم سب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور اس سبز گمبد کو اب اسلام کا علامتی نشان تصور کیا جانے لگا ہے -

روضۂ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر جو سبزگنبد قایم ہے . یہ سن 1233 ہجری میں '' سلطان محمود بن عبدالحمید '' نے تعمیر کروایا تھا - گویا اس گمبد کی تاریخ محض ٢٠٠ ( دو سو سال پرانی ) ہے - اور اس پر سبز رنگ مزید ٢٢ سال یعنی سں1255 ہجری میں پہلی مرتبہ کروایا گیا اور آج بھی ہم اسکو اسی رنگ میں دیکھتے ہیں -

سبز گنبد سے جو ہماری عقیدت ہے اسپر کوئی دو رائے نہیں - ہم تمام مسلمانوں کے دل اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں لیکن بطور مسلمان ہمارا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس مقدس سبز گنبد بننے سے ایسا کیا ہوا کہ کچھہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا حالانکہ جو کچھہ اوجھل ہوا وہ آج بھی موجود ہے لیکن اب شاید کبھی اسے کوئی نہ دیکھ سکے -

اس سے بے بناہ عقیدت اور محبت ہونے کے ساتھہ ہر مسلمان کے دل میں یہ آرزو بھی ضرور ابھرتی ہے کہ اسکو معلوم ہوسکے کہ اس مقدس گنبد کے نیچے کیا ہے ؟ وہ کون سا روحانی منظر ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے جبکہ وہ آج بھی موجود ہے ؟

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر محترم و مکرم گنبد خضرا کو ذرا سرکا کر دیکھا جایے تو کیا نظر آئیے گا ؟

جاننے کے لیے پڑھیں
===============

سبز گمبد کے مقدس نظارے نے اب ہماری آنکھوں سے کیا اوجھل کردیا ہے حالانکہ وہ اوجھل ہونے والی تمام چیزیں ابھی بھی موجود ہیں کا جواب جاننے کے لیے آپکو درج ذیل نکات کو ترتیب وار پڑھنا ہوگا -
1.روضہ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر سن 678
ہجری تک کوئی گنبد موجود نہیں تھا -

2. رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم کا وصال مبارک سن 10 ہجری میں ہوا تھا اور یوں 668 سال تک روضہ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر صرف ایک چھت قایم تھی - کوئی گنبد وغیرہ نہ تھا -

3. سن 678 ہجری میں پہلی مرتبہ ایک لکڑی کا گمبد تعمیر کیا گیا - اس میں لکڑی کے ٹکڑے اور سیسے کی پلیٹیں استمعال کی گیں -

4. 886 ہجری میں یعنی لکڑی کے پہلے گنبد کے 208 سال بعد '' ملک اشرف قتبائی '' نے اس لکڑی کے پہلے گمبد کے اوپر ایک نیا گنبد بنوایا جو کالے اور سفید رنگ کے پتھروں کا تھا - اسکو'' گمبد بیضا '' یعنی '' سفید گنبد '' کہا جاتا تھا - ( اس طرح لکڑی کا بنا ہواگنبد موجود ہونے کے باوجود ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا )

5. 892 ہجری میں یعنی صرف 6 سال بعد اسی حکمران یعنی '' ملک اشرف قتبائی '' نے اسی '' سفید گنبد '' کے اوپر ایک '' نیلے رنگ '' کا ایسا گنبد بنوایا جس کے پتھروں پر آگ کا اثر نا ممکن تھا - گویا یہ '' فایر پروف '' پتھر تھے جو مصر سے منگوائے گیے تھے - اس نیلےگنبد کی تعمیر بھی اس طرح کی گئی کہ نیچے والا سفید گنبد اپنی جگہہ بر قرار رہا -(اور یوں نیلے گنبد کی تعمیر کے بعد لکڑی کے گمبد کے ساتھہ سفید رنگ والا ''گنبد بیضا '' بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا - )

6.  1233 ہجری میں یعنی مزید 341 سالوں بعد '' عبدالحمید ثانی '' نے '' ملک اشرف قتبائی '' کے بنایےگنبد کو از سر نو تعمیر کیا ارر پھر 22 سال بعد یعنی 1255 ہجری میں پہلی بار سبز رنگ کیا گیا جو آج تک ماشا لله موجود ہے - ( اور یوں سبز گنبد کی تعمیر کے بعد لکڑی والا گنبد . سفید گنبد اور نیلا گنبد ، گویا تینوں گنبد سبز گنبد کے نیچے چھپ گئے - اور شاید اب انکو کبھی نہ دیکھا جا سکے باوجود اسکے کہ وہ آج بھی موجود ہین -)

 اوپر  دی گئی ماڈل  کی تصویر میں اندر کا سفید گنبد نظر  نہیں  آرہا لیکن نیچے کی تصویر  میں اسے دیکھ سکتے ہیں -




Next Gallery
PREVIOUS GALLERY
PIC GALLAR LIST