Picture Gallery 1 .





مسجد مینارتیں


ایک بار رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے چند اصحاب اکرم کے ساتھہ مدینہ المنوره سے باہر وادی عقیق کی جانب جارہے تھے ( اب یہ وادی مدینہ شہر کی وسعت کے باعث مدینہ منورہ کے اندر ہی متصور کی جاتی ہے ) کہ اس مقام پر جہاں یہ زیر نظر مسجد موجود ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے نماز ادا کی - یہ مسجد اس وقت بھی باقاعدہ ایک مسجد ہی تھی - گویا اس مسجد کو اعزاز حاصل ہے کہ اس کے اندر آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اور اس مسجد کا نام اس وقت بھی '' مسجد مینارتیں '' تھا اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے - یہ مسجد
'' زوحلیفہ '' جس کو'' آبیار علی '' بھی کہتے ہیں جو مدنی لوگوں کی مکّہ مکرمہ جانے والی میقات ہے .، کی جانب جانے والی ایک سڑک '' شاہراہ عنبریہ '' پر واقع ہے -

عربی میں جب کسی لفظ کے ساتھہ '' ین '' لگاتے ہیں تو اس کے معنی '' دو '' کے ہو جاتے ہیں - جیسے قرآن حکیم میں '' رب المشرقین '' کے معنی '' دونوں مشرقوں کے رب '' سے ہیں یا جیسے عام عربی زبان میں کسی چیز کی قیمت ایک ریال ہو تو اسے '' واحد ریال '' کہیں گے - واحد کے معنی عربی میں ''ایک '' کے ہیں - اسی طرح کسی چیز کی قیمت ''تین ریال '' ہو تو اسے '' تلاتہ ریال '' کہیں گے - تلاتہ کے معنی عربی میں '' تین '' کے ہوتے ہیں - لیکن اگر کسی چیز کی قیمت 
'' دو ریال '' ہو تو اسکو '' اتنین ریال'' نہیں کہیں گے - حالانکہ عربی میں
'' اتنیں '' ، '' دو '' کو کہتے ہیں بلکہ بڑی سادگی سے ہم '' ریال '' میں صرف ''یں '' کا اضافہ کر کے اسے صرف '' ریالیں '' کہ دیں گے جس کے معنی خود بخود '' دو ریال '' متصور کیے جائیں گے -

عربی گرامر کو سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زیر نظر مسجد یعنی '' مسجد مینارتیں '' کا نام مسجد مینارتیں ، اس لیے پڑا کہ اسکے دو مینار ہیں جو آپکو تصویر میں نظر بھی آ رہے ہیں - لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے دو نظر آنے والے مینار تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ کے بہت سالوں یا صدیوں کے بعد بنایے گیے لیکن یہ اول دن سے '' مسجد مینارتیں ' کے نام سے اس لیے موسوم کی گئی کہ اس مقام پر دو پہاڑیاں تھیں جنکے درمیان غالبا'' یہ مسجد موجود تھی اور یوں ان پہاڑیوں مثل مینار تصور کیا جاتا ہوگا - واللہ و اعلم - تا ہم اب یہ پہاڑیاں موجود نہیں -

اب آیے کہ اس مسجد کو ایسی کیا خصوصیت حاصل ہوئی کہ اس کو اسلامی تاریخ میں اہمیت حاصل ہو گئی - اصل واقعہ یہ ہوا کہ جب رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے چند اصحاب اکرم کے ساتھہ اس مسجد میں نماز سے فارغ ہوکر وادی عقیق کی جانب بڑھے ہی تھے تو تقریبا'' اس مقام کے آس پاس آپ نے دیکھا کہ ایک مری ہوئی بکری پڑی تھی جس سے تعفن اٹھہ رہا تھا تو صحابہ اکرم نے اپنی ناکوں پر کپڑے رکھہ لیے - اس موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اصحاب اکرم سے پوچھا کہ '' بتاؤ اس بکری کی وقعت اسکے مالک کی نظروں میں کیا ہے ؟ - تو صحابہ اکرم نے مودبانہ عرض کیا '' یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم اسکی وقعت اسکے مالک کے لیے کیا کسی کے لیے بھی کچھہ نہیں ہے ''

اس پر آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے تاریخی الفاظ ارشاد فرماتے ہوے کہا '' اس مری ہوئی بدبو دار بکری کی وقعت جو اسکے مالک کی نظر میں ہے اس سے کہیں زیادہ بے وقعت حیثیت اس دنیا کے مالک یعنی الله سبحان و تعالی کی نظر میں اس دنیا کی ہے -

مطلب یہ کہ بظاھر بڑی خوبصورت اور دلکش رنگ و بو میں بسی دنیا ہم گنہگاروں کو بڑی دلکش محسوس ہوتی ہے اور اس سے کوچ کرنے کا تصور ہمیں بد حال کر دیتا ہے لیکن حقیقت میں یہ دنیا ایک بدبودار مری ہوئی بکری سے بھی بد تر ہے اور اگر الله سبحان و تعالی کی نظر میں اس دنیا کی رتی برابر کوئی وقعت ہوتی تو یقین جانیے الله کے ساتھہ شرک اور کفر کرنے والے اور ملحدین روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کی ایک گھونٹ کو ترستے - واقعی مومنین کے لیے جنت کی آسایشوں کے مقابل اس دنیا کیوقعت ایک مری ہوئی بدبودار بکری سے بھی کم تر ہے -

اب آپ جب کبھی ان شا الله مدینہ منورہ بلایے جائیں تو '' شاہراہ عنبریہ '' پر واقع اس مسجد '' مسجد منارتیں '' کی زیارت اسکے اس تاریخی پس منظر میں ضرور کریں تو یقین جانیے آپکی یہ حاضری نورعلی نور کی منزل تک پہنچ جایے گی - 
===========
میری . میری اہلیہ اور میری بیتی اقصیٰ کی اس مقام مبارک پر حاضری اس سال یعنی سن بیس سو سولہ کے رمضان کریم کے مہینے میں میری فیس بک کے ایک فرینڈ بھائی '' طاہر اظہر '' کی مرہوں منت ہوسکی جنہوں نے بڑی چاہ سے اسکی زیارت کرائی - الله سبحان و تعالی انھیں اجر کثیر عطا فرمائیں اور ہمیشہ مدینہ منورہ کی فضاؤں میں رکھیں - آمین ثمّ آمین .- BHAI Tahir Azhar Qureshi BHAI Tahir Azhir Qureshi

آپ اسکی ویڈو دیکھنا چاہیں مکمل تفصیل کے ساتھہ تو درج ذیل لنک کو ضرور کلک کریں - 
https://www.youtube.com/watch?v=PtTrvqW0OpU


A

Next Gallery
PIC GALLAR LIST 






 




 





br> } //-->